مدرسہ شمس العلوم کا مختصر تعارف

’علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے چین تک جانا پڑے‘ یہ جملہ علم کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرضِ عین ہے۔ علم کے بغیر کوئی ترقی ممکن نہیں، دنیاوی علم دنیا کی کامیابی اور دینی علم آخرت کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ علم کی تبلیغ اور قوم کی خدمت کے مدنظر، مدرسہ شمس العلوم ایک جانا پہچانا نام ہے جو دین اور دنیا دونوں کے لیے وقف ہے۔

مدرسہ شمس العلوم، اترکھنڈ کے تاریخی اور صنعتی شہر کاشی پور کے محلہ علی خان میں واقع ایک قدیمی ادارہ ہے جو عصری اور دنیاوی تعلیم کی خدمات انجام دے رہا ہے۔ آزادی سے قبل قوم کے معاشی اور تعلیمی حالات کافی پسماندہ تھے۔ قوم کا کوئی پرسانِ حال نہ تھا۔ ایک طرف عالمی جنگ (دوم) اور دوسری طرف ملک میں انگریزی حکومت کے ظلم و ستم۔ چونکہ قوم کی فلاح و بہبود کے لیے اس وقت ایک اچھے دینی ادارے کی سخت ضرورت تھی، اس لیے ہمارے کچھ فکرمند بزرگ حضرات جن میں جناب صوفی کریم بخش، جناب نظر محمدؐ، جناب ٹھیکیدار اللہ بخش، جناب چوہدری فتح محمد، جناب حاجی اسمٰعیل اور جناب عبد الحمید صدر صاحب کے باہمی مشورے سے سن 1941ء میں مسجد صدیقیان علی خان کاشی پور میں عارضی طور پر ایک دینی ادارے کا آغاز کیا گیا، جس میں ناظرہ اور دینی تعلیم کا انتظام کیا گیا۔

چند سالوں میں ہی محلہ علی خان میں واقع ایک پرانا مکان محض چھ ہزار روپے میں خرید کر ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھی گئی جس کا نام مدرسہ شمس العلوم رکھا گیا۔ آج مدرسہ شمس العلوم میں دینی تعلیم، حفظ اور ناظرہ کے ساتھ ساتھ درجہ ایک سے لے کر انٹرمیڈیٹ تک کی تعلیم کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ مدرسہ شمس العلوم، محلہ علی خان کاشی پور، دارالعلوم دیوبند کا باقاعدہ رکن ہے اور دارالعلوم دیوبند کی رہنمائی میں اسلامی تعلیم و تربیت کی خدمات انجام دے رہا ہے۔ ادارے میں جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد کے زیرِ نگرانی تعلیمی نصاب کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

مدرسہ شمس العلوم قوم کی رہنمائی اور بیداری کا مرکز ہی نہیں رہا بلکہ ملک کی آزادی میں بھی ادارے کا اہم کردار رہا ہے۔ جنگِ آزادی سے لے کر آج تک یہاں علمی، اصلاحی اور عام مجالس کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے جس میں علما سے لے کر دیگر معزز اور وطن پرست حضرات شرکت کرتے تھے۔ حکومت تک اپنی بات پہنچانے کے لیے یہ نشستیں بڑی مددگار ثابت ہوتی تھیں۔ جناب صوفی کریم بخش، جناب عبد الحمید صدر صاحب اور دیگر بزرگ حضرات کئی بار پنڈت گووند بلّبھ پنت جی کے ساتھ تحریکِ آزادی میں شامل ہوئے۔ ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے ان تمام بزرگ حضرات کا جنہوں نے آزادی کے بعد ہندوستان کو اپنا مادر وطن سمجھا، یہاں سے ہجرت نہیں کی، اور تمام عمر اپنے وجود اور اداروں کی حفاظت کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ آزاد ہند میں بھی اس ادارے کی اہمیت کچھ کم نہیں رہی، یہاں بہت سے سیاست دان اکثر آیا جایا کرتے تھے جن میں یوپی اور اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ شری پنڈت نارائن دت تیواری، سابق ایم پی شری ستیندر چندر گوڑیا، سماجی خدمتگار شری ہر داسی لال مہروترا اور سابق ایم پی شری کے سی سنگھ بابا وغیرہ کے نام شامل کیے جا سکتے ہیں۔

آزادی سے قبل ابتدائی دور میں ادارہ صرف دینی تعلیم کا ہی بندوبست کرتا تھا، لیکن ہمارے بزرگ دنیاوی تعلیم کی اہمیت بخوبی جانتے تھے۔ چنانچہ سن 1968ء میں پرائمری اسکول کا آغاز کرکے ادارے میں دنیاوی تعلیم کا انتظام کیا گیا، اور تقریباً 18 سال بعد سن 1986ء میں انتظامیہ کمیٹی کے اراکین، جن میں جناب حاجی محمدؐ  نسیم، اقبال ادیب اور محمدؐ  عمر ایڈووکیٹ  کی کوششوں سے جونیئر ہائی اسکول کی منظوری حاصل کرکے اسکول کو اپ گریڈ کیا گیا۔ یہ سلسلہ یہاں پر ہی نہیں رکا بلکہ ایک وسیع میدان میں نئی عمارت تعمیر کرکے شمس العلوم ہائی اسکول قائم کیا گیا، جس کو سن 2006ء میں باضابطہ طور پر اتراکھنڈ حکومت سے منظوری دی گئی۔ اس طرح ادارہ دینی اور جدید تعلیم کو فروغ دے کر قوم کی خدمت انجام دے رہا ہے۔

موجودہ وقت میں مدرسہ شمس العلوم کے تحت جامعہ عربیہ شمس العلوم، شمس العلوم پرائمری اسکول، شمس العلوم جونیئر ہائی اسکول، اور شمس العلوم ہائی اسکول جیسے تعلیمی ادارے منظم کیے جاتے ہیں۔ مدرسہ میں زیرِ تعلیم تمام بیرونی غریب و مسکین طلبہ کے قیام، طعام، علاج و معالجہ کا معقول انتظام مدرسہ ہی میں کیا جاتا ہے۔ مدرسہ شمس العلوم اور اس سے متعلق تمام اداروں کو کوئی سرکاری یا غیر سرکاری مدد حاصل نہیں ہے۔ ان تمام کے اخراجات محض نجی ذرائع اور سماجی تعاون سے پورے کیے جاتے ہیں۔

موجودہ وقت میں مدرسے کی ملکیت جامعہ عربیہ شمس العلوم کی تین منزلہ عمارت اور تقریباً 21 بیگھے کے میدان میں قائم شمس العلوم ہائی اسکول کی ایک منزلہ عمارت پر مشتمل ہے۔ مدرسہ شمس العلوم تقریباً پون صدی سے مذہبی و عصری تعلیمی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس عرصے میں جامعہ سے سیکڑوں حافظ، قاری، عالم اور مبلغین پیدا ہوئے۔ جامعہ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مدرسہ شمس العلوم سے فارغ اور فیض یافتہ افراد آج خود جامعہ ہذا میں، آس پاس دیگر مدارس اور مکاتب میں، شہر کی مساجد اور شہری علاقوں میں تدریس و تبلیغ کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یہاں تک کہ جامعہ دینی خدمات انجام دینے پر ہی اکتفا نہیں کر رہا ہے بلکہ دنیاوی اعتبار سے بھی ادارے کے تعلیم یافتہ کثیر طلبہ ایک کامیاب اور باوقار زندگی گزار رہے ہیں۔ ادارے کی تعلیمی خدمات کے عوض آج کثیر طلبہ سرکاری و غیر سرکاری سروس حاصل کرکے ملک کی ترقی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

آج تک مدرسہ شمس العلوم دینی و دنیاوی تعلیم کو فروغ دے رہا ہے اور اپنے مکمل آب و تاب کے ساتھ سماج کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہا ہے۔ لیکن اس کے برخلاف آج بھی ہماری قوم تعلیم سے بہت دوری بنائے ہوئے ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری خواتین کا ناخواندہ ہونا ہے۔ ترقی یافتہ قومیں اپنی خواتین کی تعلیم پر سب سے زیادہ دھیان دیتی ہیں کیونکہ ایک عورت ہی اپنے پورے خاندان کی درسگاہ ہوتی ہے۔ اسی لیے دانشورانِ شہر کی صلاح و مشورے کو مدنظر رکھتے ہوئے شمس العلوم ہائی اسکول کو اپ گریڈ کرکے ایس یو گرلز انٹر کالج قائم کرنے کی کوشش عمل میں لائی جا رہی ہے، جس میں صرف بچیوں کے ہی داخلے لیے جائیں گے تاکہ قوم کی بچیاں مسلم تہذیب اور رسم و رواج کے مطابق اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔

مدرسہ شمس العلوم کے لیے خدمات انجام دینے والے تمام حضرات کی فہرست بہت لمبی ہے، جن میں جناب حاجی جمیل صاحب، جناب حاجی عبدالرشید، جناب حاجی مبارک حسین 'احمر' صاحب، جناب حاجی محمدؐ  رفیق صاحب (گنگے والے)، جناب حاجی محمدؐ  یوسف صاحب، جناب حافظ محمدؐ  حسیب صاحب، جناب محمدؐ  ادریس صاحب (انڈے والے)، جناب محمدؐ  حسین صاحب (مولہ والے)، جناب مبارک حسین (قتیل) صاحب، جناب رضا حسین ممبر صاحب، جناب مفتی محمدؐ  یوسف صاحب، جناب محمدؐ  ابراہیم (ابری) صاحب، جناب فتح محمد (فتو) صاحب، جناب محمدؐ  ایوب (فٹاک والے) صاحب، جناب الیاس (سیٹھ جی) صاحب، جناب حنفی صاحب، جناب محمدؐ  رفیق صاحب (اے ڈی او) صاحب، جناب محمدؐ  عرفان (ایس ڈی ایم) صاحب، جناب محمدؐ  صدیق کیشیئر صاحب، جناب محمدؐ  حنیف ایڈووکیٹ اور جناب ماسٹر محمدؐ  فاروق صاحب وغیرہ سرِ فہرست ہیں۔

مندرجہ بالا سبھی کی محنت اور دعاؤں کی بدولت آج مدرسہ شمس العلوم ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
محمدؐ جلیس صدیقی
علی خان، کاشی پور


جامعه کا تعلیمی نظام

قرآن کا صحیح پڑھنا ، اسلام کی بنیادی تعلیم حفظ قرآن ،تجوید قرآن ، اردود یننات، فارسی ، عربی (اول تا سوم )،    ہندی، انگریزی، کمپیوٹر، تبلیغ  اور اسلامی تربیت۔

اپيل جامعه

برادران ملت ! جامعہ عربیہ شمس العوم تقریبا ًپون صدی سے مذہبی ، عصری و تبلیغی خدمات نہایت خلوص کے ساتھ انجام دے رہا ہے ، جامعہ ہذا سے ہزاورں طالبِ علم  استفادہ کرنے کے بعد مقامی و بیرونی مدرسوں میں تدریس ،تفسیر و امامت کی خدمات انجام دے رہے ہیں، نیز جامعہ میں فارسی و عربی (سال سوم ) تحفیظ القرآن، ناظرہ اور تجوید کے علاوہ اُردو، ریاضی و انگلش وغیرہ کی تعلیم کل معقول انتظام کیا جا رہاہے۔ بیرونی غریب و مسکین طلبہ کا قیام ،    طعام،اور علاج و معالجہ کا معقول انتظام بھی جامعہ ہذا میں رہتا ہے، طلبہ کی کثیر تعداد کی بنا پر رہائشی کمروں کے کم ہونے کی وجہ سے تمام طلبہ اور  مہمانانِ رسول کا قیام درسگاہوں میں رہتاہے، اس لئے رہائشی کمروں کی جدید تعمیر ضروری ہے۔ جامعہ عربیہ  شمس العلوم کے تحت جامعہ عربیہ شمس العلوم، شمس العلوم پرائمری اسکول، شمس العلوم جونیئر ہائی اسکول، اور شمس العلوم ہائی اسکول جیسے تعلیمی ادارے  نظم کئےجا رہے ہیں۔ مدرسہ شمس العلوم اور اس سے متعلقہ تمام اداروں کو کوئی سرکاری یا غیر سرکاری مدد حاصل نہیں ہے۔ تمام اخراجات نجی ذرائع اور سماجی تعاون سے پورے کیے جاتے ہیں۔

جامعہ عربیہ  شمس االعلوم آج تک دینی اور دنیاوی تعلیم کو فروغ دے رہا ہے اور اپنے مکمل آب و تاب کے ساتھ سماج کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ کمیٹی کے باہمی مشورے سے شمس العلوم ہائی اسکول کو اپ گریڈ کر کے ایس یو گرلز انٹر کالج قائم کرنے کی قوائد عمل میں لائی جا رہی ہے، جس میں صرف لڑکیوں کے داخلے لیے جائیں گے۔انٹر کالج کی توسیع کے لئے   ایک دفتر ،ایک کمپیوٹر لیب، ایک سائنس لیب ،ایک لائبریری اور ۱۰کمروں  کو تعمیر کرنے کا مشورہ ہے۔مدرسہ کے پاس 21بیگھہ اراضی ہے لیکن فی الحال مدرسہ کا تعمیری کا م اپنے وسائل کی وجہ سے موقوف ہے جسکی تمکیل کے لئے تقریباً ۵۰ لاکھ روپے کی شدید  ضرورت ہے ۔ لہٰذا اہل خیر حضرات سے پر زور مؤدبانہ درخواست ہے کہ اپنے عطیات ، زکوٰۃ ، صدقات سے جامعہ کا زیادہ سے زیادہ تعاون فرما کر ثوابِ دارین کے حقدار بنیں۔

تعاون کی چند شکلیں

         قرآن پاک اور تعلیم کی ایک درسگاہ اپنی یا اپنے مرحوم کی طرف سے بنواد یں۔ ایک مدرِّس کی ماہانہ تنخواہ کی ذمہ داری لے لیں۔ کسی ایک طالب علم کے اخراجات کی کفالت فرماتے رہیں ۔ طلبہ اور مدرسین کے لئے دینی مذہبی تدریسی کتب کا نظم فرمادیں ۔ حسب مواقع بلا تعیین رقم بھیج کر مددفرماتے رہیں مدرسہ ہذٰہ اعلاقہ کا قدیمی دینی ادارہ ہے جس کے فیض یافته ملک و بیرون ملک  تدریسی و تفسیری امامت کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ لہٰذہ  جامعہ آپ سے خصوصی تعاون کی اپیل کرتا ہے۔فقط

الداعيان : الحاج محمد نسیم صدر، اسراحمد سیکریٹری،الحاج مشیر انور    خازن اوراکین کمیٹی جامعه عربيه شمس العلوم علی خان کاشی پور، اُودھم سنگھ نگر، اُترا کھنڈ (انڈیا)

رابطہ نمبر-91-9917078660+ ,91-9837205170+,91-9012770634+

Account Details

A/c Name:- MADARSA SHAMSULULUM

A/c No:  20176163895 ,       IFS Code:  IDIB000K620          Bank Name:  Indian Bank

Branch: Kashipur, Sadhna Complex Ramnagar Road, Kashipur Udham Singh Nagar 244713 Uttarakhand (India) 


मदरसा शमसुल उलूम का मुख्‍़तसर ताअर्रूफ

इल्‍म हासिल करो चाहे इसके लिए चीन तक जाना पड़े, यह जुमला इल्‍म की अहमियत बयान करता है, इल्‍म हासिल करना हर मुसलमान मर्द और औरत पर फर्ज़--ऐन है, इल्‍म के बिना कोई तरक्‍की मुमकिन नहीं, दुनियाबी इल्‍म दुनिया की कामयाबी और दीनी इल्‍म आखि़रत की कामयाबी के लिए ज़रूरी है। इल्‍म की तबलीग़ और कौ़म की खिदमत के मद्दे नज़र, मदरसा शमसुल उलूम एक जाना पहचाना नाम है जो दीन और दुनिया दोनो के लिए वक्‍़फ है।

मदरसा शमसुल उलूम उत्तराखण्ड के तारीख़ी और सनअती शहर काशीपुर के मौहल्ला अल्ली खाँ में वाके़ एक क़दीमी इदारा है। जो असरी व दुनियाबी तालीम की खिदमात अन्जाम दे रहा है। आज़ादी से क़ब्ल क़ौम की मआशी और तालीमी हालात काफी पिछड़े हुए थे, क़ौम का कोई पुरसाने हाल न था, एक तरफ आलमी जंग (दोयम) और दूसरी तरफ देश में अंग्रेज़ी हुकूमत के ज़ुल्‍मो सितम, चूँकी क़ौम की फलाहो बहबूद के लिए उस वक़्त एक अच्छे दीनी इदारे की सख़्त ज़रूरत थी इसलिए हमारे कुछ फिकरमन्‍द बुज़ुर्ग हज़रात जिसमें जनाब सूफी करीम बख्‍़श, जनाब नज़र मुहम्मद, जनाब ठेकेदार अल्लाह बख्‍़श, जनाब चैधरी फतेह मुहम्मद, जनाब हाजी इस्माईल व जनाब अब्दुल हमीद सदर साहब के बाहमी मश्‍वरे से सन 19410 में मर्कज़ मस्जिद सिदि्दकि़यान अल्ली खाँ काशीपुर में आरजी़ तौर पर एक दीनी इदारे की शुरूआत की गई, जिसमें नाज़रा और दीनी तालीम का इन्‍तजा़म किया गया, चन्द सालों में ही मौहल्ला अल्ली खाँ में वाक़े एक पुराना मकान महज़ छः हज़ार रू0 में खरीद कर एक ऐसे इदारे की संगे-बुनियाद रखी गई जिसका नाम मदरसा शमसुल उलूम रखा गया, आज मदरसा शमसुल उलूम में दीनी तालीम, हिफ्ज़ और नाज़रा के साथ-साथ दर्जा एक से लेकर इण्‍टर मीडियट तक की तालीम का इन्तज़ाम किया जा रहा है। मदरसा शमसुल उलूम मौहल्‍ला अल्‍ली खॉं काशीपुर, दारूल उलूम देवबन्‍द, का बाज़ाब्‍जा रूकुन है और दारूल उलूम देवबन्‍द की रहनुमाई में इस्‍लामी तालीमो तरबियत की खि़दमात अन्‍जाम दे रहा है। इदारे में जामिया क़ासमिया मदरसा शाही मुरादाबाद के ज़ेरे निगरानी तालीमी निसाब का अहतमाम किया जा रहा है।

मदरसा शमसुल उलूम क़ौम की रहनुमाई और बेदारी का मरकज़ ही नहीं रहा बल्कि देश की आज़ादी में भी इदारे का अहम किरदार रहा है, जंगे-आज़ादी से लेकर आज  तक यहॉं पर इल्‍मी/इस्‍लाही और आम मजलिसों का अहतमाम किया जाता रहा है जिसमें उलमाओं से लेकर दीगर मुअजि़ज़ और वतन परस्‍त हज़रात शिरकत किया करते थे, सरकार तक अपनी बात पहुँचाने के लिए यह नशिश्‍तें बड़ी मददगार सबित होती थीं, जिसके नतीजे जनाब सूफी करीम बख्‍़श, जनाब अब्दुल हमीद सदर साहब और दीगर बुज़ुर्ग हज़रात, पंडित गोविन्‍द बल्‍लव पन्‍त जी के साथ कई बार आज़ादी की तहरीक में शामिल हुए, हमें शुक्रगु़ज़ार होना चाहिए उन तमाम बुज़ुर्ग हज़रात का जिन्‍होने आज़ादी के बाद हन्दिुस्‍‍तान को अपना मादरे वतन समझा यहॉं से हिजरत नहीं की, और तमाम उम्र अपने बुजूद और इदारों की हिफाज़त के लिए जद्दोजहद करते रहे। आज़ाद हिन्‍द में भी इस इदारे की अहमियत कुछ कम नहीं रही, यहॉं बहुत से सियासतदॉं अक्‍सर आया जाया करते थे जिनमें यू0पी0 और उत्‍तराखण्‍ड के साबिक़ वज़ीरे-आला श्री पं0 नारायण दत्‍त तिवारी, पूर्व सांसद श्री सत्‍येन्‍द्र चन्‍द्र गुडि़या, समाज सेवी श्री हरदासी लाल महरोत्रा और पूर्व सांसद श्री के0सी0सिंह बाबा वग़ैरा के नाम शामिल किये जा सकते हैं।

आज़ादी से क़ब्‍ल शुरूआती दौर में इदारा सिर्फ दीनी तालीम का ही बन्‍दोबस्‍त करता था लेकिन हमारे बुजुर्ग दुनियाबी तालीम की अहमियत बखूबी जानते थे जिसके तहत सन 19680 में प्राईमरी स्कूल का आग़ाज़ कर इदारे में दुनियाबी तालीम का इन्‍तज़ाम किया और लगभग 18 साल बाद सन 1986 ई0 में इन्‍तजामिया कमेटी मेम्‍बरान जिनमें जनाब हाजी मौ0 नसीम, इक़बाल अदीब और मौ0 उमर एडवोकेट की कोशिशों से जूनियर हाई स्कूल की मान्‍यता हासिल कर स्‍कूल को अपग्रेड किया गया यह सिलसिला यहीं पर ही नहीं रूका और बिछावट के वसी मैदान में एक बिल्‍कुल नई इमारत तामीर कर शमसुल उलूम हाई स्कूल क़ायम किया गया जिसको सन 20060 में बक़ायदा तौर पर उत्‍तराखण्‍ड सरकार द्वारा मान्‍यता प्रदान की गई, इस तरहा इदारा दीनी और मोर्डन तालीम को फरोग देकर कौ़म की खिदमत को अंजाम दे रहा है।

मौजूदा वक्‍़त में मदरसा शमसुल उलूम के तहत जामिया अरबिया शमसुल उलूम, शमसुल उलूम प्राईमरी स्‍कूल, शमसुल उलूम, जू0हा0स्‍कूल, और शमसुल उलूम हाई स्‍कूल तक के तालीमी इदारे नज्‍़म किये जाते हैं, मदरसा हाज़ा में ज़ेरे तालीम तमाम बेरूनी ग़रीब व मिस्‍कीन तल्‍बा का क़याम, तुआम इलाजो मुआल्‍जा का माक़ूल इन्‍ज़ाम मदरसा हाज़ा में ही किया जाता है, मदरसा शमसुल उलूम और उससे मुताल्लिका  सभी इदारों को कोई सरकारी या गै़र सरकारी मदद हासिल नहीं है इन सभी के इख़राजात महज़ निजि ज़राए और समाजिक तआव्‍वुन से पूरे किये जाते हैं। मौजूदा वक्‍़त मदरसे की मिल्कियत जामिया अरबिया शमसुल उलूम की तीम मंजि़ला इमारत और लगभग 21 बीघे बिछावट के मैदान में बना शमसुल उलूम हाई स्‍कूल की एक मंजि़ला इमारत है।

मदरसा शमसुल उलूम तकरीबन पौन सदी से मज़हबी व असरी तालीमी खिदमात अंजाम दे रहा है इस अर्से से में जामिया से सैकड़ों हाफिज़, क़ारी व आलिम और मुब्लिग़ दाईये-हक़ पैदा हुए जामिया की मक़बूलियत का अंदाज़ा इस बात से लगाया जा सकता है कि मदरसा शमसुल उलूम से फारिग़ और फैज़ याफ्ता गान आज खुद जामिया हाज़ा में, आसपास दीगर मदारिस और मकातिब में, शहर की मसाजिद व शहरी इलाक़ों में तदरीसों तबलीग की खिदमात अंजाम दे रहे हैं, इतना ही नहीं कि जामिया दीनी खिदमात अंजाम देने पर ही इक्तिफा कर रहा है बल्कि दुनियाबी ऐतबार से भी इदारे के तालीम याफ्ता कसीर तालिबे इल्म एक कामयाब और बवक़ार ज़िन्दगी गुज़ार रहे हैं, इदारे की तालीमी खिदमात के एवज़ आज कसीर तालिबे इल्म सरकारी व गै़र सरकारी सर्विस हासिल कर देश की तरक़्क़ी में अपनी खिदमात अंजाम दे रहे हैं।

आज तक मरदसा शमसुल उलूम दीनी व दुनियाबी तालीम को फरोग़ दे रहा है और अपने मुकम्मल आबोताब के साथ समाज की फलाहो बहबूद के लिए काम कर रहा है, लेकिल इसके बर्अक्‍स आज भी हमारी क़ौम तालीम से बहुत दूरी बनाये हुए है, इसकी सबसे बड़ी वज्‍हा हमारी ख्‍़वातीन हज़रात का नाख्‍़वान्‍दा होना है, तरक्‍़क़ी याफ्ता क़ौमें अपनी ख्‍़वातीन की तालीम पर सबसे ज्‍़यादा ध्‍यान देती हैं क्‍योंकी एक औरत ही अपने पूरे ख़ानदान की  दर्सगाह होती है, इसी लिए दानिशवाराने शहर की सलाहो मश्‍वारे को मद्देनज़र रखते हुए शमसुल उलूम हाई स्‍कूल को अपग्रेड कर एस0यू0 गर्ल्‍स इण्‍टर कोलिज क़ायम करने की क़वायद अमल में लाई जा रही है, जिसमें सिर्फ बच्चियों के ही दाखले लिए जायेंगे ताकि क़ौम की बच्चियॉं मुस्लिम तहज़ीब और रस्‍मों रिवाज के मुताबिक़ अपनी तालीम मुकम्‍मल कर सकें।

मदरसा शमसुल उलूम के लिए खिदमत अंजाम देने वाले तमाम हज़रात की फेहरिस्‍त बहुत लम्‍बी है जिनमें जनाब हाजी जमील साहब, जनाब हाजी अब्दुर्रशीद, जनाब हाजी मुबारक हुसैन ‘अहमर’ साहब, जनाब हाजी मौ0 रफीक साहब (गंगेवाले), जनाब हाजी मौ0 यूसुफ साहब, जनाब हाफिज़ मौ हसीब साहब, जनाब मौ0 इद्रीस साहब (अण्डे वाले), जनाब मौ0 हुसैन साहब (मोलावाले), जनाब मुबारक  हुसैन (क़तील) साहब, जनाब रज़ा हुसैन मेम्बर साहब, जनाब मुफ्ति मौ0 यूसुफ साहब, जनाब मौ0 इब्राहीम (इब्री) साहब, जनाब, फतेह मौहम्‍मद (फत्‍तु) साहब, जनाब मौ अय्यूब(फाटक वाले) साहब, जनाब इलियास (सेठ जी) साहब, जनाब हन्फी साहब, जनाब मौ0 रफीक साहब (ए0डी00) साहब, जनाब मौ0 इरफान (एस0डी0एम0) साहब, जनाब मौ0 सद्दीक कैशियर साहब, जनाब मौ0 हनीफ एडवोकेट और जनाब मास्‍टर मौ0 फारूख़ साहब वग़ैरा सरे फेहरिस्‍त हैं, मंदरजा बाला सभी की मेहनत और दुआओं की बदोलत आज मदरसा शमसुल उलूम तरक़्क़ी की राह पर गामज़न है।

मौ0 जलीस सिद्दीक़ी

अल्ली खाँ, काशीपुर।

जामिया का तालीमी निज़ाम
कुरान का सही पढ़ना, इस्लाम की बुनियादी तालीम, हिफ़्ज़-ए-कुरान, तजवीद-ए-कुरान, उर्दू, दीनियात, फ़ारसी, अरबी (अव्वल से सूम), हिंदी, अंग्रेज़ी, कंप्यूटर, तबलीग़ और इस्लामी तर्बियत।

अपील-ए-जामिया

बरादरान-ए-मिल्लत!जामिया अरबिया शम्सुल उलूम करीबन पौने सदी से मज़हबी, असरी और तबलीग़ी खिदमात निहायत ख़ुलूस के साथ अंजाम दे रहा है। इस जामिया से हज़ारों तलबा इस्तेफादा करने के बाद मकामी और बैरूनी मदरसों में तदरीस, तफ़सीर और इमामत की खिदमात अंजाम दे रहे हैं। इसके अलावा जामिया में फ़ारसी और अरबी (साल-ए-सोम), हिफ़्ज़-ए-कुरान, नाज़रा और तजवीद के साथ-साथ उर्दू, रियाज़ी और अंग्रेज़ी वग़ैरह की तालीम का माक़ूल इंतज़ाम किया जा रहा है।

गरीब और मिस्कीन बैरूनी तलबा के क़ियाम, तआम और इलाज व मुआलजा का भी मुनासिब बंदोबस्त जामिया में मौजूद है। तलबा की बड़ी तादाद की वजह से रहाइशी कमरों की कमी है, जिसके कारण तमाम तलबा और मेहमान-ए-रसूल का क़ियाम दर्सगाहों में होता है। इसीलिए नए रहाइशी कमरों की तामीर ज़रूरी है।

जामिया अरबिया शम्सुल उलूम के तहत जामिया अरबिया शमसुलउलूमशमसुलउलूम प्राइमरी स्कूलशमसुलउलूम जूनियर हाई स्कूल, और शमसुलउलूम हाई स्कूल जैसे तालीमी इदारे चलाए जा रहे हैं। इन तमाम इदारों को किसी सरकारी या गैर-सरकारी मदद हासिल नहीं है। तमाम इख़राजात निज़ी ज़राए और समाजी तआवुन से पूरे किए जाते हैं।

जामिया आज तक दीन और दुनिया की तालीम को फरोग़ देने और समाज की फ़लाह व बहबूद के लिए अपने मुकम्मल आब व ताब के साथ काम कर रहा है। यही वजह है कि मौजूदा कमेटी के बाहमी मशवरे से शम्सुल उलूम हाई स्कूल को अपग्रेड कर के एस.यू. गर्ल्स इंटर कॉलेज कायम करने के क़वाइद अमल में लाई जा रही है, जिसमें सिर्फ़ लड़कियों के दाख़िले लिए जाएंगे। इंटर कॉलेज की तौसीअ के लिए एक दफ़्तर, एक कंप्यूटर लैब, एक साइंस लैब, एक लाइब्रेरी और 10 कमरों की तामीर का मशवरा है।

मदरसे के पास 21 बीघा ज़मीन है, लेकिन फिलहाल मदरसे का तामीरी काम अपने वसाइल की वजह से मुअत्तल है। इसकी तकमील के लिए तकरीबन 50 लाख रुपये की शदीद ज़रूरत है। लिहाज़ा अहल-ए-खैर हज़रात से पुरजोर मुदब्बाना गुज़ारिश है कि अपने अतियात, ज़कात और सदकात से जामिया का ज़्यादा से ज़्यादा तआवुन फरमा कर सवाब-ए-दारैन के हक़दार बनें।

तआवुन की चंद शकलें

  1. कुरान पाक और तालीम की एक दर्सगाह अपनी या अपने मरहूम की तरफ़ से बनवा दें।
  2. एक मदर्रिस की माहाना तनख्वाह की ज़िम्मेदारी ले लें।
  3. किसी एक तलबा के अख़राजात की किफालत फरमाते रहें।
  4. तलबा और मदर्रिसीन के लिए दीनियात और तदरीसी किताबों का इंतज़ाम फरमा दें।
  5. हसब-ए-मौक़ा बिला तईन रक़म भेज कर मदद फरमाते रहें।

मदरस-ए-हाज़ा इलाक़ा का कदीमी दीनी इदारा है, जिसके फ़ैज़याफ़्ता तलबा मुल्क और बैरून-ए-मुल्क तदरीसी, तफ़सीरी और इमामत की खिदमात अंजाम दे रहे हैं। लिहाज़ा जामिया आपसे ख़ुसूसी तआवुन की अपील करता है।

फ़कत
अद-दाइयान:

  • अल्हाज मोहम्मद नसीम (सदर)        मोबाइल नम्‍बर +91-9012770634
  • असरार अहमद (सेक्रेटरी)                मोबाइल नम्‍बर +91-9837205170
  • अल्हाज मुशीर अनवर (ख़ाज़िन)        मोबाइल नम्‍बर +91-9917078660

अराकीन कमेटी:
जामिया अरबिया शम्सुल उलूम, अली ख़ान, काशीपुर, ऊधम सिंह नगर, उत्तराखंड (इंडिया)

Account Details

A/c Name:- MADARSA SHAMSULULUM

A/c No:  20176163895 ,       IFS Code:  IDIB000K620          Bank Name:  Indian Bank

Branch: Kashipur, Sadhna Complex Ramnagar Road, Kashipur Udham Singh Nagar 244713 Uttarakhand (India)